اردو
Thursday 14th of December 2017
code: 84164
نویں محرم؛ تاسوعائے حسینی، کاروان حسینی میں شمولیت کا دن

عن أَبَی عَبْدِ اللَّهِ ع: تَاسُوعَاءُ يَوْمٌ حُوصِرَ فِيهِ الْحُسَيْنُ ع وَ أَصْحَابُهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ بِكَرْبَلَاءَ وَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ خَيْلُ أَهْلِ الشَّامِ وَ أَنَاخُوا عَلَيْهِ  وَ فَرِحَ ابْنُ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِتَوَافُرِ الْخَيْلِ وَ كَثْرَتِهَا وَ اسْتَضْعَفُوا فِيهِ الْحُسَيْنَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ أَصْحَابَهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ أَيْقَنُوا أَنْ لَا يَأْتِيَ الْحُسَيْنَ ع نَاصِرٌ وَ لَا يُمِدَّهُ أَهْلُ الْعِرَاقِ بِأَبِي الْمُسْتَضْعَفُ الْغَرِيبُ

امام صادق (ع): تاسوعا ایسا دن ہے جب امام حسین(ع) اور اصحاب کا کربلا میں محاصرہ کرلیا گیا۔ اور شامیوں کے لشکر نے ان کو گھیر لیا. ابن مرجانہ اور ابن سعد اپنے گھوڑ سواروں اور لشکر کی كثرت سے مسرور ہوئے اور امام حسین صلوات اللہ علیہ اور آپ(ع) کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو کمزور و ناتواں سمجھا اور یقین کرلیا کہ امام حسین (ع) کا اب کوئی ناصر نہیں آئے گا اور اہل عراق ان کی مدد نہیں کریں گے، میرے باپ فدا ہوجائیں اس کمزور گردانے گئے غریب پر۔(کافی، ج4، ص147)

 توجہ:

اگرچه تاسوعا اباعبدالله الحسین (ع) کی غربت کا دن ہے اور ہمارے آہ و بکا کا دن ہے لیکن اس کے ساتھ ہمارے لئے یہ دن اس واسطے اہم ہے کہ اپنے بارے میں فکر کریں؛ کیا میں اپنے امام کی نصرت کے لئے تیار ہوں؟ تاسوعا بتارہا ہے کہ اگر لوگ اپنے امام کی نصرت کے لئے تیار نہ ہوں، تو امام کو کس طرح قتلگاہ میں پہونچا دیا جاتا ہے۔

جو قوم بیدار نہ ہو اور بغیر کسی تیاری کے اپنے امام کو پکار رہی ہو تو اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ امت بیدار نہ ہو تو امامت یا قتلگاہ میں ہوگی یا برسرنیزہ۔

۔ پھر کبھی امام کا سر نوک نیزہ پر نہ ملے
۔ پھر کبھی امام کا سر اقدس تن سے جدا نہ ہو
۔ پھر کبھی کسی امام کو رسیوں میں نہ جکڑا جائے۔
۔ ر کبھی اہل بیت(ع) کی تشہیر نہ کی جائے۔

پھر کبھی کسی امام کی آغوش میں  ششماہے کا گلا نہ چھیدا جائے، خدا نے غیبت کو طولانی کر دیا ہے تاکہ ہم تیار ہوجائیں۔ ہمارا العجل کہنا ان لوگوں کی طرح نہ ہو جو اپنے ہزارہا خطوط میں امام کو لکھا کرتے تھے«فَإِنَّ النَّاسَ مُنْتَظِرُونَ لَكَ  لَا إِمَامَ لَهُمْ غَيْرُكَ، فَالْعَجَلَ، ثُمَّ الْعَجَلَ، ثُمَّ الْعَجَلَ »(انساب الاشراف، بلاذری)

کیوں زیارتوں میں آیا ہے«وَ نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ»؟ (كامل الزيارات ، ص218)


۔ ہمیں اس طرح تیار رہنا چاہئے جیسا امام حسین (ع) نے اپنی ہمراہی کے سلسلہ میں بیان فرمایا:

منْ كَانَ بَاذِلًا فِينَا مُهْجَتَهُ وَ مُوَطِّناً عَلَى لِقَاءِ اللَّهِ نَفْسَهُ فَلْيَرْحَل معنا۔

جو شخص اپنا خون نثار کرنے اور خدا سے ملاقات کے لئے تیار ہو  ہمارے ساتھ چلے (اللهوف على قتلى الطفوف ، ابن طاووس، ص61۔)


 السَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِيدِ السَّلَامُ عَلَى أَسِيرِ الْكُرُبَاتِ وَ قَتِيلِ الْعَبَرَات۔

user comment
 

latest article

  کائنات کردگارکا عظیم وجود قدسی
  کتاب علی علیہ السلام کی حقیقت کیا ہے؟
  مصحف امام علی علیہ السلام کی حقیقت کیا ہے؟
  نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ
  سیاست علوی
  جوانوں کوامام علی علیہ السلام کی وصیتیں
  سفياني کا کوفہ پر تسلط (حصہ دوم)
  اہل سنّت بھائیوں کے منابع سے پیغمبر اعظم ﷺکی سیرت طیبہ اور ...
  خوشبوئے حیات حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
  امام صادق ؑ کی علمی عظمت